نوگاؤں، 15؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سیلاب سے متاثرہ ریاست آسام کے 28اضلاع کے ڈوبنے کے بعد پانی کی سطح پر آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے،لیکن اب بھی سینکڑوں گاؤں ایسے ہیں جو سیلاب کی زد میں ہیں ۔سیلاب سے متاثرہ لوگوں کا حال جاننے کے لیے میڈیا کی ایک ٹیم نوگاؤں ضلع میں پہنچی، آسام کا نوگاؤں ضلع ان 28اضلاع میں سے ایک ہے جو سیلاب کی مار جھیل رہا ہے۔نوگاؤں کے کئی گاؤں اب بھی تین -چار فٹ سے زیادہ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔گاؤں کے لوگ گھروں کے سامان کو چھوڑ کر جان بچانے کے لیے دوسرے علاقوں میں نقل مکانی پر مجبور ہیں۔میڈیا کی ٹیم نے نوگاؤں ضلع کے پرانی گودام گاؤں کا جائزہ لیا۔برہمپتر ندی سے متصل لہروں کے دونوں کناروں اس گاؤں میں کئی مکانات ہیں،لہروں کے اس طرف گھروں میں تالا لگا ہوا ہے اور بہت سی اشیاء تیر رہی ہیں، گھروں کو جانے والے راستے پر تین سے 4فٹ تک پانی بھرا ہوا ہے۔اس گاؤں میں رہنے والی کسم نے بات چیت میں کہا کہ گزشتہ 15دنوں سے وہ سیلاب سے متاثر ہیں ،لیکن مدد کے لیے ان کے پاس اب تک کوئی نہیں آیا۔کسم کے شوہر پردیپ نے بھی بتایا گاؤں کے سارے لوگ اپنے گھروں کوچھوڑ کر دوسرے مقامات پر جا چکے ہیں۔حالانکہ دونوں کا کہنا ہے گزشتہ دو تین دنوں سے بارش نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔گزشتہ تین دنوں میں پانی کی سطح 5فٹ سے گھٹ کر 3-4فٹ تک آ چکی ہے،گاؤں میں بنا اسکول سیلاب کی وجہ سے بند ہے،اسکول کا احاطہ میں کسی بڑی آبی ذخائر کی شکل لے چکا ہے ،جہاں تقریبا دوفٹ پانی اب بھی بھرا ہوا ہے۔پرانی گودام گاؤں سے متصل تقریبا سبھی گاؤں کا یہی حال ہے۔نوگاؤں ضلع گولاگھاٹ ضلع سے متصل ہے، جہاں پر قاضی رنگا وائلڈ لائف سنچری بھی ہے۔پورا علاقہ سیلاب سے مکمل طور پر ڈوباہوا ہے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حکومت دعوی کر رہی ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد کی جا رہی ہے ،لیکن سیلاب متاثرین کی مانیں، تو مدد ابھی تک ان تک نہیں پہنچی ہے۔